بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحْیمِ

ذکرِ حضرت ابو البشر بابا آدم صفہ اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام

کنیت ابو البشر۔ لقب صفی آدم اِس وجہ سے مقرر ہوا۔ کہ آپ زمین (مٹی) سے پیدا ہوئے۔ آپ کی عمر ایک ہزار سال تھی۔ آپ کی بہت زیادہ اولاد پیدا ہوئی۔ اور حضرت شیث علیہ السلام سب سے بڑے تھے۔ تاریخ میں اِن کے متعلق یوں روایت ہے۔ کہ آپ کی وفات ہندوستان میں آئی۔ جو کہ کوہِ سر ا عندلیپ جو کہ قطب کے جنوب کی طرف واقع ہے۔ دفن ہوئے۔ اور حوا آپ کی وفات کے ایک سال بعد بعض لکھتے ہیں۔ سات سال بعد اور مقدم خیال ہے۔ آ پ کے تین روز بعد اِس دارِ فانی سے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوئیں۔

حضرت شیث علیہ السلام: جو کہ آپ کے خلیفہ اور وصی تھے۔ اُنہوں نے اپنی والدہ حوّا کو اپنے والدہ حضرت آدم علیہ السلام کے پاس دفن کیا۔ روایت ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام نے طوفان کے وقت آپ کے تابوت کو اٹھایا۔ اور در کوہِ ابو قیس و دیگر روایت درکوہئ نجف میں دفن

جب آپ کی عمر نو سو باراں سال کی ہوئی۔ تو آپ پر بتیس صحیفہ ہائی نازل ہوئے۔ جب آپ کی عمر ایک سو پانچ سال ہوئی انوش پیدا ہوئے۔

حضرت انوش علیہ السلام: روایت ہے کہ آپ کی والدہ قدسی تھی۔ جو کہ حضرت کی مانند بغیر باپ اور ماں پیدا ہوئے بعد میں پدر بوجب وصیت مسند پر بیٹھے۔اور نو سال عمر گذار کر دُنیا سے رخصت ہوئے اور جب حضرت انوش نوے سال کی عمر میں ہوئے۔ تو آپ کے ہاں قنیان پیدا ہوا۔

حضرت قنیان: اپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ روشن ضمیر۔ بیدار بخت اور فراخ حوصلہ تھے۔ باپ کی وفات کے بعد دُنیا کے انتظامات اور کاروبار میں مشغول ہوئے۔ آپ کی عمر ۶۲۹ سال گزری۔ اور اِس عرصہ میں آپ نے رفاہئ کام کے کاموں میں بہت حصہ لیا۔ شاہراؤں و دیگرمخصوص جگہوں پر آپ نے لوگوں کے مفاد و ٹھہرنے کی خاطر عمارات تعمیر کروائیں۔ جب آپ ستر سال کے ہوئے۔ تو آپ کے ہاں مہلائل پسر پیدا ہوا۔

۔حضرت مہلائل: حضرت قنینان کے لڑکوں میں سے سب سے افضل تھے۔ جب آپ کی عمر نو سال کو پہنچی۔ تو اپنے بیٹے برو کو اپنی جگہ مسند نشین کیا۔ جب آپ کی عمر پینسٹھ سال کی ہوئی تھی۔ تو برو پسر پیدا ہوا تھا